تیری شاہی تو نہیں میرے خدا مانگی تھی
میں نے بیٹی کے مقدر کی دعا مانگی تھی
تجھ سے مانگی ہی نہیں بادِ صبا کی نعمت
موسمِ حبس میں تھوڑی سی ہوا مانگی تھی
اس کی پاداش میں خورشید خفا بیٹھا ہے
میں نے جگنو سے اندھیرے میں ضیا مانگی تھی
وہ ہی دو چار سی خوشیاں وہ ہی تھوڑا سا سکوں
یوں بھی تقدیر کہاں سب سے جدا مانگی تھی
صاف گوئی مجھے لاحق ہے مرے اچھے طبیب
بس اسی واسطے اچھی سی دوا مانگی تھی
جبر کے نیزے مری آنکھوں سے نم کھبنچتے ہیں
یاد جب آتا ہے زینب نے ردا مانگی تھی
اک رحیمی کی فراوانی کا شہرہ سن کر
خوئے بخشش نے بھی چھوٹی سی خطا مانگی تھی
لوگ جس وقت خموشی کی گھٹن سہتے تھے
میں نے اس وقت محبت کی صدا مانگی تھی
مانگتا میں بھی اگر کرتہ میسر آتا
جیسی یعقوب نے مالک سے شفا مانگی تھی
آدھے رستے کی مسافت سے مسافر پہ کھلا
صبر کے بجھتے چراغوں نے بقا مانگی تھی
مُسترد اِتنی ہوئیں میری دُعائیں دانش!!!
کچھ بھی اَب یاد نہیں ! کَب، کہاں ، کیا ، مانگی تھی
